پی ایس ایل چوتھے ایڈیشن کا فاتح کون، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹائٹل فتح کی پیاس بجھانے کے لیے بے چین ہیں، پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کی فاتح کا فیصلہ اتوار کو پشاور زلمی سے ٹاکرے میں ہوگا۔

کوئٹہ کی ٹیم تیسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی لیکن تاحال وہ پہلی ٹرافی کی راہ دیکھ رہے ہیں اور پشاور زلمی بھی تیسری بار فیصلہ کن معرکے میں پہنچی ہے، دونوں فرنچائز اس سے قبل 2017 کے ایڈیشن میں بھی مدمقابل آچکے ہیں، جس میں پشاور زلمی نے اولین بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا تاہم اس بارکوئٹہ گلیڈی ایٹرزکے پاس 2برس قبل ملنے والی ناکامی کا حساب چکتا کرنے کا موقع ہے۔

2016 میں ابتدائی ایڈیشن میں بھی کوئٹہ نے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی، جہاں پر اسے اسلام آباد یونائیٹڈ نے 6 وکٹوں سے قابو کرکے ٹرافی قبضے میں کرلی تھی ، 2018 میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو اعزاز کے دفاع سے محروم کرکے دوسری بار فاتح بننے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا، کوئٹہ کی ٹیم دوبار رنراپ رہی ہے لیکن تیسری کوشش میں یقینی طور پر وہ ٹرافی قبضے میں کرنا چاہے گی۔

ابتدائی تینوں ایڈیشنز کے برعکس اس بار لیگ کے 8 میچز پاکستان میں منعقد کیے گئے، پہلے مرحلے میں لاہور کو تین میچز کی میزبانی سونپی گئی تھی لیکن بھارت کی جانب سے سرحدوں پر تناؤ کے سبب پاکستان کی فضائی حدود گزشتہ دنوں کچھ وقت کے لیے بندکرنا پڑی تھی، جس پر لاجسٹک مسائل کے سبب لیگ کے تمام میچز کی میزبانی کراچی کو سونپ دی گئی تھی، کراچی میں اب تک منعقدہ 7 مقابلوں میں شائقین کی بھرپور شمولیت نے جہاں لیگ منتظمین کو خوش کیا وہیں دنیا بھر کو کھیل سے اپنی والہانہ محبت کا بھی پیغام دیاگیا۔

غیرملکی کرکٹرز کے کراچی میں قیام کے دوران بھرپور لطف اٹھایا، گزشتہ دنوں سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے تاریخی عمارت مہتہ پیلس میں ایونٹ میں شریک ٹیموں، کوچز کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب بھی سجائی، جس میں سول اور فوجی حکام کے علاوہ عمائدین شہر نے بھی شرکت کی ، اس موقع پر مہمان کھلاڑیوں کو سندھ کی روایتی اجرک اور ٹوپیاں بھی پیش کی گئیں۔

فائنل سے قبل نیشنل اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل مندوبین کو بریفنگ دی گئی، پاکستان رینجرز سندھ کے سیکٹرکمانڈر بریگیڈئیرشفیق نے آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کے سین کیرول اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے میجر( ر) حسین امام کو فول پروف سکیورٹی کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی،سیکٹر کمانڈر نے بتایا کہ سیکیورٹی کوفول پروف بنانے کے لیے اسٹیڈیم کے گردونواح اورکراچی بھرمیں سرچ آپریشن کیے جارہے ہیں،اس کے علاوہ روٹس اوراسٹیڈیم کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے،کھلاڑیوں کے روٹس پرپولیس اور رینجرز کی عارضی چوکیاں اور اسنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے،آسٹریلوی کرکٹ بور ڈ اور بنگلہ دیشی بورڈ کے آفیشلز نے سکیورٹی کے حوالے سے رینجرز اور پولیس کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔

رواں برس کوئٹہ اور پشاور زلمی کی ٹیموں نے گروپ میں 10،10 میچز کھیل کر یکساں طور پر7،7 پوائنٹس لے کر ابتدائی دو ٹاپ پوزیشنز پر حاصل کیا، دونوں ٹیموں کے پوائنٹس بھی یکساں طور پر 14،14 رہے، تاہم بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پشاور زلمی نے پہلی پوزیشن پائی ، تاہم ابتدائی کوالیفائر میں کوئٹہ نے دلچسپ مقابلے میں 10 رنز سے کامیابی سمیٹ کر براہ راست فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔

اس مقابلے میں کوئٹہ نے پہلے کھیل کر مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ پر 186 رنز جوڑے، شین واٹسن نے 43 گیندوں پر 71 کی اننگز کھیلی، حریف سائیڈ کے لیے پاکستانی پیسر وہاب ریاض نے 26رنز دے کر2 شکار کیے، پشاور زلمی کی ٹیم جوابی اننگز میں دلچسپ اور بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 7 وکٹ پر 176رنز بناپائی، ڈیرن سیمی نے 21 رنز پر 46رنز بٹورے، محمد حسنین نے 28 رنز دے کر2 شکار کیے، عمدہ پرفارمنس پر آسٹریلوی اسٹار شین واٹسن کو بہترین کھلاڑی گرداناگیا۔

ایلیمنیٹرون میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کے ارمان ٹھنڈے کئے، یونائیٹڈ نے 4 وکٹ سے کامیابی سمیٹ کر فائنل میں رسائی کا ایک اور موقع پایا، کنگز نے پہلے کھیل کر 9وکٹ پر 161 رنز بنائے، بابراعظم 32 بالز میں 42 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے، محمد موسیٰ نے 42رنز دے کر3 شکار کیے، فاتح الیون نے ہدف 19.3 اوورز میں6 وکٹ کھوکر حاصل کرلیا، انگلش اوپنر الیکس ہیلز نے 42 گیندوں پر41رنز بنائے، عمر خان نے 16رنز کے عوض 2 وکٹیں لیں، ناکامی نے کراچی کنگز کو ایونٹ سے باہر کیا۔

ایلیمنیٹر2 میں پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائٹیڈ کا قصہ بھی تمام کردیا، زلمی نے دوسرے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاکر فائنل میں رسائی حاصل کی۔ سابق چیمپئن نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹ پر 214 رنز جوڑے، کامران اکمل 43 بالز پر 74 رنز اسکور کیے، کیمرون ڈیلپورٹ نے 24 رنز دے کر2 کھلاڑیوں کو پویلین چلتا کیا، اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم 9 وکٹ پر 166 رنز بنائے، ویسٹ انڈین اسٹار چیڈوک والٹن نے 29 بالز پر 48 رنز اسکور کیے، کرس جورڈن نے 26 رنز دیکر3 شکار کیے، کامران اکمل میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیئے گئے۔

2019 کے ایڈیشن میں اب تک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے شین واٹسن 11 میچز میں 423 رنز بناکر ٹاپ اسکورر کا اعزاز اپنے نام کیے ہوئے ہیں، اسلام آباد یونائیٹڈ کی جرسی زیب تن کرنے والے کیمرون ڈیلپورٹ 355 رنز جوڑکر دوسرے نمبر پر براجمان ہیں، کراچی کنگز کے کولن انگرام 344 ، پشاور زلمی کے 338 اور ان کے ٹیم ساتھی کامران اکمل 336 رنز بناکر نمایاں ہیں۔ بولنگ میں پشاور زلمی کے حسن علی 25 وکٹیں لے کر سب سے آگے ہیں، اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف 21 شکاروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، پشاور زلمی کے وہاب ریاض 16 جبکہ کراچی کنگز میں شامل عمر خان 15 اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سہیل تنویر بھی 15 شکاروں کے ساتھ ٹاپ فائیو میں شامل ہیں۔

9 مارچ کو پاکستان میں لیگ کے شروع ہونے والے چوتھے اور آخری مرحلے کا ابتدائی میچ ریکارڈ ساز رہا، اس میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایونٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مجموعہ 3 وکٹ پر 238 رنز جوڑے، انھوں نے یہ کارنامہ لاہور قلندرز کے خلاف انجام دیا، دفاعی چیمپئن یونائیٹڈ نے اس مقابلے میں 49 رنز سے کامیابی سمیٹ کر پلے آف میں رسائی پائی، کیمرون ڈیلپورٹ نے تیزترین سنچری اور آصف علی نے ففٹی جڑی، اننگز مین سب سے زیادہ 16 چھکوں کا ریکارڈ بھی بن گیا، شاہین شاہ آفریدی نے مہنگے ترین اسپیل کا منفی ریکارڈ بھی اپنے نام جوڑا، انھیں کوٹے کے 4 اوورز میں 62 رنز کی مار کھانا پڑی، سہیل اختر کے 75 رنز رائیگاں گئے، فہیم اشرف نے 6کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، یہ ایونٹ کی دوسری بہترین بولنگ شمار ہوئی۔

اس کے علاوہ ایڈیشن میں پشاور زلمی نے ایلیمنیٹر 2 میں پشاور زلمی 214 رنز بھی ایونٹ کی تاریخ کا دوسرا بڑا مجموعہ شمار ہوا، لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کے خلاف 4 وکٹ پر 204 رنز جوڑے جبکہ پشاور زلمی نے اس سے قبل کراچی کنگز کے خلاف 7 وکٹ پر 203 رنز اسکور کیے۔پشاور زلمی کے خلاف لاہور قلندرز کی ٹیم 78رنز پر ڈھیر ہوئی، یہ ایونٹ کی تاریخ کا دوسرا کمترین اسکور رہا، اس سے قبل 2017 کے ایڈیشن میں پشاور زلمی کے خلاف لاہور قلندرز ہی کی ٹیم 59 رنز پر بھی محدود ہوچکی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کے کامیاب ترین بیٹسمین کا ریکارڈ سردست پشاور زلمی میں شامل کامران اکمل کے نام ہے، انھوں نے مجموعی طورپر 46میچز میں 45 اننگز میں 1265 رنز جوڑے، شین واٹسن 1107، بابراعظم1043، احمد شہزاد958 اور شعیب ملک 849 رنز بناکر نمایاں ہیں، کسی ایک ایڈیشن میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ لیوک رونکی کے قبضے میں ہے، انھوں نے 2018 ء کے ایڈیشن میں11 میچز میں 435 رنز بنائے ہیں، تاہم اس بار شین واٹسن ان کا ریکارڈ توڑسکتے ہیں، انھیں اس کے لیے مزید 13 رنز درکار ہیں، واٹسن اب تک 423 رنز بناکر آل ٹائم فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

 

Facebook Comments

یہ بھی دیکھیں

ناموربولرزمجھ سے ڈرتے ہیں مگرکیمرے کے سامنے اعتراف نہیں کرتے،گیل

 لندن:  ویسٹ انڈین اسٹار بیٹسمین کرس گیل نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے نامی …