سمو گ انسانی ہڈیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

سمو گ انسانی ہڈیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا ر ہی ہے۔ زہریلی گیسوں کی زیادتی،تابکار شعاعوں،کیمیائی مادوں کے اخراج،ٹھوس ذرات،،گرد وغبار اور گاڑیوں کے دھویں وغیرہ کی وجہ سے فضائی آلودگی کی افزائش کاذریعہ ہے،فضائی آلودگی کے عوامل کوپالیوٹینٹ کہتے ہیں جن کی بنیادی اور ثانوی پالیوٹینٹ میں تقسیم کی گئی ہے۔ بنیادی پالیوٹینٹ کاربن مونو آکسائیڈ،ہائیڈرو کاربن،نائٹروجن،سلفر،تابکاری اورغیر نامیاتی مرکبات سے بنتے ہیں۔جبکہ ثانوی پالیوٹینٹ بنیادی پالیوٹینٹ کے آپس میں مکس ہونے سے بنتے ہیں جو بہت سی تباہ کاریاں کا سبب ہیں۔
گاڑیوں کا دھواں،صنعتی فُضلہ،ایندھن کے جلنا،تابکاری اخراج،کانوں سے زہریلی گیسوں کااخراج،کیڑے مار زرعی ادویات کا بے دریغ استعمال،تمباکونوشی اورکوڑے کا جلنا سمو گ کا باعث ہیں۔
سمو گ سانس،دل و دماغی امراض پیدا کرتی ہے،اس پر کافی تحقیق ہو چکی ہے۔اب ماہرین صحت کا کہناہے کہ آلودہ فضا ء انسانی ہڈیوں کی کمزو ری کا سبب بن رہی ہے۔اُن کا خیال ہے کہ پی۔ایم2.5 کے فضائی ذرات انسانی دل،پھیپھڑوں،آنکھوں،دماغ کے لئے نہ صرف مضر ہیں بلکہ سمو گ سے خود ہڈیوں کے اندر کی معدنیات کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں ورلڈ ہیلتھ سے منسلک ادارے کی ماہر کیتھرین ٹون نے بھارتی شہر حیدر آبادکیساتھ کے 23آلودہ مقامات کا بغور معائنہ کیا اور 3700افراد کے طبی ٹیسٹ کیے۔ان افراد کی ہڈیوں کے اندر کی معدنیات کی کمی کے مروجہ ٹیسٹ بھی کیے۔اس ٹیسٹ میں کو لہوں اور ریڑھ کی ہڈیوں میں منرلز کی مقدار کابغور جائزہ لیا جاتاہے۔اسی جائزہ کی بنیاد پر گنٹھیا اور جوڑوں کے درد کی تشخیص کی جاتی ہے۔جائزہ کے نتائج سے پتہ چلا کہ اگر ایک مربع میٹر میں ڈھائی مائیکرو میٹر ذرات کی مقدار32.8 مائیکرو گرام تک ہوتو یہ آلودگی ڈبلیو ایچ اوکے معیار سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔
کیتھرین ٹون اور اُنکی ٹیم نے محتاط اندازے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ اگر پی ایم 2.5کی مقدارفضا میں صرف تین مائیکرو گرام کااضافہ ہوتا ہے تو مرد وخواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں کی معدنیاتی کثافت میں 0.011گرام فی مربع سینٹی میٹر اور کولہوں میں 0.004گرام فی مربع سینٹی میٹر کمی نظر آتی ہے۔
اس طرح آلودہ فضامیں سیاہ کاربن کے ذرات ہڈیوں کو ہلکا اور نرم بنا سکتے ہیں۔
پاک وہند اور افریقہ میں لوگ کھانا پکانے کے لئے کوئلہ استعمال کرتے ہیں۔اس سے؎گھر کے اندر سمو گ بڑھتی ہے۔یہ آلودگی آہستہ آہستہ جسم میں گھس کر جہاں اتنی مہلک بیماریوں پیداکرتی ہے وہیں یہ ہڈیوں کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

Facebook Comments

یہ بھی دیکھیں

نلکے اور ٹنکیوں پر نصب کم خرچ کلورین ڈسپینسر سے ڈائریا میں کمی

اسٹینفورڈ: اگر نلکوں، برمے اور پانی کے ذخائر پر خودکار نظام سے  کلورین شامل کردی جائے …